
پشاور:آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں حالیہ اضافہ دہشت گردوں کی جانب سے مذاکرات کو بحال کرانے کی ناکام کوشش ہے۔ اگر مذاکرات ہوئے تو وہ صرف پاکستان اور عبوری افغان حکومت کے درمیان ہوں گے، کسی بھی گروہ یا جتھے سے بات نہیں کی جائے گی۔ میں اور میری بہادر فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، دہشت گردوں کے پاس ریاست کے سامنے سر تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے جنہوں نے اس دین کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھایا ہے انکو جواب دینا پڑے گا، افغان مہاجرین کو پاکستان میں پاکستان کے قوانین کے مطابق رہنا ہوگا۔ آرمی چیف نے افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا افغان عبوری حکومت کی جانب سے دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے ؟ پاکستان کے آئین میں حاکمیت صرف اللہ کی ذات کی ہے ۔ یہ خوارج کون سی شریعت لانا چاہتے ہیں ؟۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ، ریاست مدینہ کے بعد کلمے پر بننے والی دوسری ریاست ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔


































