
ضلع کرم میں معمولات زندگی بحال نہ ہوسکے۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز مرکزی شاہراہ کھلوانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ گاڑیوں کا ایندھن، خوراک، روز مرہ استعمال کی اشیاء اور ضروری ادویات بھی ناپید ہوگئیں۔ اشیائے خورونوش ختم ہونے کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ادویات کی عدم دستیابی سے اسپتال مقتل بن گئے۔ دو ماہ کے دوران 29 بچے دم توڑ چکے ہیں۔ شدید بیمار افراد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جانے لگے۔ انسانی المیہ جنم لینے کے باوجود حکومت ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔
عوامی نمائندے بھی بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں. ممبر صوبائی اسمبلی علی ہادی عرفانی اپنے علاقے کی صورت حال پر کہتے ہیں کرم کے دیگر رہنماؤں اور عوام کی طرح انہوں نے بھی مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی انتظامات بہتر بنا کے کرم کی شہہ رگ حیات کی حیثیت رکھنے والی مین شاہراہ فوری کھولی جائے. پوری آبادی کو محصور رکھنا عوام کو قتل عام کے مترادف ہے۔


































