
بیروت : حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے کہا ہے کہ جو بھی پیغمبر اسلام (ص) کا پیرو ہے، وہ مسئلہ فلسطین پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔جس وقت ہم پیغمبر اسلام (ص) کا یوم ولادت مناتے ہیں تو سب سے پہلے جس مسئلے کی طرف ہماری توجہ جاتی ہے وہ فلسطین کا مسئلہ ہے۔ دنیا میں آزادی سے محبت کرنے والا کوئی بھی انسان فلسطین، اسکی مقبوضہ سرزمین، اسکے مظلوم عوام اور مقدسات کے تعلق سے غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام کے یوم ولادت کی مناسبت سے اپنے خطاب میں سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت کریں۔ اسرائیل دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے ، انہوں نے بحرینی حکومت کے تل ابیب کے ساتھ معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے
صیہونی حکومت سے تعلقات کی برقراری کے مقصد سے شمالی عراق کے اربیل اجلاس کا ذکر کیا اور اسے عراقیوں کے ردعمل کو پرکھنے کی کسوٹی قرار دیا اور کہا کہ اگر اس اجلاس کے بارے میں عراقی خاموش رہتے تو ایسے اجلاس آگے بھی ہوتے لیکن سبھی عراقیوں نے ایک آواز میں اس کی مخالفت کی۔ حسن نصراللہ نے کہا کہ آج امریکا اور صیہونی حکومت کے حامی اس بات کویقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مسلمان صہیونی قابضین کی مخالفت ان کے دلوں میں بھی نہ کریں۔ مسلمانوں کو صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔ لبنان کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے حسن نصراللہ نے کہا کہ استقامت کی طاقت ملک کے دفاع کے لئے ہے اور ہم تل ابیب کو اپنے قومی سرمایہ کو لوٹنے نہیں دیں گے۔


































