
قاہرہ : حماس اور ثالثوں کے درمیان غزہ مذاکرات کا پہلا دور مصر میں مثبت ماحول میں ختم ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے پر بات چیت آج بھی جاری رہے گی۔
الجزیرہ میڈیا گروپ کے مطابق شرم الشیخ میں ہونے والی ملاقات مثبت رہی اور اس میں موجودہ دور کے مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ حماس کے وفد نے ثالثوں کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری قیدیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
مصر کے ریاستی میڈیا القاہرہ نیوز کے مطابق پہلے دن کے مذاکرات میں قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے، جنگ بندی، اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی پر بات چیت ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بھی کہا کہ صدر ٹرمپ اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے جلد تبادلے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، تاکہ ان کے امن منصوبے کے دیگر حصوں پر عمل درآمد میں تیزی لائی جا سکے۔


































