
اسلام آباد: دینی جماعتوں کے کئی ماہ سے جاری احتجاج کے بعد صدر نے مدارس بل پر دستخط کردئے۔
گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد سومرو نے لاڑکانہ میں صدر آصف زرداری سے ملاقات کی تھی، اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے، پیپلز پارٹی کی قیادت اور جمعیت علمائے اسلام سندھ کے رہنماؤں کے درمیان سیاسی صورتحال کے علاوہ مدارس رجسٹریشن بل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
صدر کے دستخط کے بعد سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ 2024 قانون بن گیا ہے اور اب مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی۔ اس سے پہلے حکومت نے مدارس کو محکمہ تعلیم میں رجسٹریشن کرانے کا پابند کیا تھا۔ مدارس بل کے تحت ہر مدرسے کو اپنی سالانہ تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانی ہوگی۔ مدرسہ اپنے مالی حساب کا آڈٹ کروانے کا پابند ہوگا ۔ مدرسے کو ایسا لٹریچر پڑھانے یا شائع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جو عسکریت پسندی، فرقہ واریت یا مذہبی منافرت کو فروغ دے۔ ہر مدرسہ اپنے وسائل کے حساب سے مرحلہ وار اپنے نصاب میں عصری مضامین شامل کرنے کا پابند ہوگا۔ اتحاد تنظیمات مدارس نے بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ دینی اور سیاسی تنظیم جمعیت علمائے اسلام کی ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ مدارس کے خلاف ہر سازش ناکام بنائیں گے، مدارس کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔


































