
اسلام آباد: پاکستان نے ہندوستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں دہشت گردی کا الزام حقائق کے منافی قرار دیکر مسترد کردیا۔ پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہاہے کہ دوسرے ملکوں پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے ہندوستان کو بیرون ملک ریاستی پشت پناہی کے تحت ٹارگٹ کلنگ، عسکریت پسندی کے لیے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ ترجمان نے ہندوستانی وزیردفاع کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ ہندوستان کو قانونی اور اخلاقی طور پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان پر دعوے داری کا کوئی حق نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے معاہدہ مستقل جنگ بندی کا باعث بنے گا۔ شفقت علی خان نے کہاکہ جنگ بندی معاہدے پر فوری اور مکمل عمل درآمد کیا جائے، جنگ بندی انسانی امداد بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی، اسرائیلی فوج کے اندھا دھند طاقت کے استعمال سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
ادھر پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں ہندوستانی آرمی چیف کے بیان کو مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی ناکام کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ بیان اندرونی طور پر اقلیتوں پر جبر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستانی آرمی چیف اُوپندرا دیویدی نے الزام لگایا تھا کہ کشمیر میں 80 فیصد مبینہ عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہندوستان کا حصہ ہونے کی بات کی تھی


































