Tue Oct 13, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

آپریشن وعدہ صادق 4 کی 81 ویں لہر، دشمن کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا

ایران کیخلاف امریکی و صیہونی جارحیت کے جواب میں آپریشن وعدہ صادق 4 کی 81 ویں لہر کے دوران دشمن کے 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "وعدۂ صادق 4” کی 81 ویں لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جسے وطن کے شہداء اور خصوصاً بہادر سپاہی شہید سید جواد ایزدی کے نام منسوب کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں "کامیابی اور طاقت کے ساتھ” مقبوضہ علاقوں میں 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں دیمونا، حیفہ، حیفا کے قریب الخضیرہ، اور شمالی و جنوبی تل ابیب کے علاقے شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ اس حملے میں مرحلہ وار جدید اور درست نشانہ بنانے والے میزائل استعمال کیے گئے، جن میں "عماد”، "قیام”، "خرمشہر 4” اور "قدر” شامل ہیں۔ میدانی معلومات کے مطابق، صہیونی ریاست کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے، اور خاص طور پر گزشتہ تین لہروں کے بعد ہلاک و زخمیوں کی تعداد 2500 سے تجاوز کر چکی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج ایک قوم کی طرح متحد ہو کر ایران کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ برسوں میں مغربی، امریکی اور اسرائیلی تجزیوں میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے نظریات مختلف ہیں اور موقع ملنے پر فوج حکومت کے خلاف ہو سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں دونوں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے امریکی عوام اور وہاں کے دانشوروں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے حامی عناصر، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جانب سے پھیلائی گئی "جھوٹی معلومات اور جنگی پروپیگنڈے” کے پیچھے نہ چلیں۔ بیان میں کہا گیا کہ زمینی حقائق کو امریکہ کے اندر، ایران کی سڑکوں پر، اور تل ابیب و حیفا کی فضا میں دیکھا جا سکتا ہے، اور پاسدارانِ انقلاب اپنے بیانات کے ذریعے "شفاف انداز میں حقائق” پیش کرتا رہے گا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular