
طرابلس: لیبیا میں سمندری طوفان سے متاثرہ شمالی شہر دیرنا کے گلی کوچے لاشوں سے بھر گئے ہیں۔ شہر کے میئر عبدالمنعم الغیثی نے اموات بیس ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کردیا۔ لیبیا کے شہر درنا میں امدادی کاموں کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر طرف بچوں، بڑوں اور خواتین کی لاشیں نظر آرہی ہیں۔ مردہ خانے بھی بھرے پڑے ہیں۔ حکام نے وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ طوفان کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر سات ہزار ہو گئی ہے جبکہ 30 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جنہیں شہر سے باہر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سڑکیں اور مواصلاتی نظام تباہ ہونے سے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ سینکڑوں لاشوں کو اجتماعی قبروں میں سپرد لحد کردیا گیا۔ بین الاقوامی امدادی اداروں سے لاشوں کی تدفین کیلئے بیگ فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ترکیہ، جرمنی اور دیگر ممالک کی جانب سے متاثرین کے لیے امداد پہنچا دی گئی۔ دس ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں جو ممکنہ طور پر یا تو سمندر میں بہہ گئے ہیں یا گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔


































