
تہران : ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے تہران اور بغداد کے تعلقات کو علاقے کے مفاد میں قراردیا ہے۔عراقی وزیر خارجہ فواد حسین سے ملاقات میں سید ابراہیم رئیسی نے اغیار کی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کےدرمیان باہمی تعاون کی فضا کی برقراری کو علاقائی ہم فکری کی تقویت کیلئے موثر قرار دیا۔ ایرانی صدر نے تہران اور ریاض کے درمیان عراق کے توسط سے مذاکرات کے گزشتہ پانچ مرحلوں کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہونے والے معاہدوں پر عمل در آمد سے آگے کی سمت جانے کا راستہ ہموار ہو گا۔سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ قانون کے دائرے میں عراق کے اندرونی مسائل کا حل اور تمام سیاسی دھڑوں کے درمیان گفتگو، ایک نئی حکومت کی تشکیل کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مرجعیت کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے کی سلامتی میں مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی میدان میں بھی اپنا کردار بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ صدر ایران نے کہا کہ دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنا اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعاون کا فروغ ہماری خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔سید ابراہیم رئیسی نے ایک بار پھر ایران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہماری دفاعی حکمت عملی میں ایٹمی ہتھیاروں کی کوئی گنجائش نہیں تاہم ایٹمی ٹیکنالوجی کا پرامن استعمال ایرانی عوام کا حق ہے اور اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔صدر ایران نے اسرائیل کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکام ذہن نشین کرلیں کہ ایران کے خلاف کسی اقدام سے پہلے، اسرائیل نام کی کوئی چیز باقی بھی بچے گی یا نہیں؟ صدر ایران نے صیہونی حکام کو مشورہ دیا کہ فیصلے اور کارروائی کے درمیانی فاصلے کو مد نظر رکھیں۔


































