
نیویارک : اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے افغانستان میں ایک سال سے بند لڑکیوں کے اسکول کھولے جانے پر زور دیا ہے۔ انٹونیو گوتریس نےٹوئٹ کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم کا ایک سال ضائع ہوگیا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف وزی اور افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حالات فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور ان کی اسکول واپسی کا بندوبست کیا جائے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر کے سربراہ مارکس پوٹزل نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھنےکی کوئی قابل قبول وجہ پیش نہیں کی جاسکتی۔


































