
پشاور: لوئر کرم کے علاقے بگن میں پاراچنار جانے والی سرکاری گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر جاوید اللّٰہ محسود، ایف سی اور پولیس اہلکار سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی کمشنر کرم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کردیا گیا تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
75 ٹرکوں پر مشتمل قافلے کو ہنگو کی تحصیل ٹل میں روک دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قافلہ مشاورت اور صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد نکلے گا۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی۔ کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے پر گورنر خیبر پخونخوا نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے۔
واضح رہے کہ بگن کے مقام پر ہی پاراچنار سے پشاور جانے والے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں چھوٹے معصوم بچے اورخواتین سمیت 50 کے قریب مومنین شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب تین ماہ سے پاراچنار کا محاصرہ جاری ہے جس کے باعث اشیائے خوردونوش، ادویات، ایندھن سمیت اشیائے ضرورت کی شدید قلّت ہے۔ ادویات نہ ملنے کے سبب 125 سے زائد بچے جانبحق ہوچکے ہیں۔
پاراچنار کے محاصرے کے خلاف سخت سردی اور برف باری میں پریس کلب پاراچنار پر 15 روز سے احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے۔


































