
ماسکو : شام نے ترکی کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کردیا۔ روس میں شام کے سفیر ریاض حداد نے دمشق سے متعلق ترکی کی جارحانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دمشق کا انقرہ سے گفتگو کا کوئی ارادہ نہيں اور نہ ہی مستقل قریب میں اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ انقرہ وقتاً فوقتاً صوبہ الحسکہ میں لاکھوں شامیوں کو پانی کی فراہمی بند کر دیتا ہے کیونکہ اس نے آستانہ عمل مذاکرات کی ضامن حکومت کے طور پر ضروری وعدوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آستانہ عمل مذاکرات شام کی علاقائی اور ارضی سالمیت کے احترام کے لئے ہو رہے ہیں جبکہ ترکی دہشت گرد گروہوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور تنازع کے پرامن حل کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے لہذا ہمارا انقرہ کے ساتھ حکومتی عہدیداروں کی سطح پر مذاکرات کا تب تک کوئی منصوبہ نہیں ہے جب تک کہ ترکی دمشق کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ترک نہیں کرتا۔


































