
نئی دہلی : بھارتی سپریم کورٹ نے مسلم دشمن وقف ایکٹ کے بعض حصوں پر عمل درآمد کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ عدالت نے مختلف درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ دیا کہ اگلی کارروائی تک ان شقوں پر عمل نہیں ہوگا۔ وقف ایکٹ کوٓل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ۔ جمیعت العلمائے ہند کے ارشد مدنی سور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسدالدین اویسی سمیت مختلف اداروں اور تنظیموں نے چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وقف بورڈ کو حاصل خصوصی اختیارات امتیازی نوعیت رکھتے ہیں اور یہ مساوات کے اصول کے برخلاف ہیں۔ عدالت نے اپنے عبوری حکم میں قرار دیا کہ پورے ایکٹ کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ وقف بورڈ میں تین سے زیادہ غیر مسلم رکن نہیں ہونے چاہیے اور بورڈ کا سی ای او مسلم ہوناچاہیے۔وقف بنانے والے کیلئے پانچ سال اسلام کا پیروکار ہونے کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔ عدالت اب ان درخواستوں پر تفصیلی سماعت کرے گی۔


































