Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف لندن میں شدید احتجاج

لندن : سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لندن میں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے تعلیمی ادارے مڈل ٹیمپل کا بینچر بنانے کی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے تو مظاہرین نے گھیر لیا اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے جانبدارانہ تھے، انہیں مڈل ٹیمپل بینچر بنانا برطانوی اقدار کے منافی ہے، مڈل ٹیمپل جیسے معتبر ادارے کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ وہ تقریب کے بعد باہر نکلے تو کئی مظاہرین نے ان کی گاڑی کو گھیرنے کی کوشش کی اور قاضی فائز نے خود کو سیٹ کے پیچھے چھالیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے اس احتجاج کو حملہ قرار دیکر شکایت درج کروا دی ہے۔ ہائی کمشنر نے کہاہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ میں 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملہ کرنے والوں کی شناخت کیلیے اقدامات کا حکم دیا اور کہا کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کی گاڑی پر بھی حملہ ہوا ہے، ہم اس واقعہ پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایف آئی آر درج کر کے مزید کارروائی کی جائے گی، حملہ آوروں کے شناختی کارڈ بلاک اور پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیے

Most Popular