
لندن : سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لندن میں شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے تعلیمی ادارے مڈل ٹیمپل کا بینچر بنانے کی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے تو مظاہرین نے گھیر لیا اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے جانبدارانہ تھے، انہیں مڈل ٹیمپل بینچر بنانا برطانوی اقدار کے منافی ہے، مڈل ٹیمپل جیسے معتبر ادارے کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ وہ تقریب کے بعد باہر نکلے تو کئی مظاہرین نے ان کی گاڑی کو گھیرنے کی کوشش کی اور قاضی فائز نے خود کو سیٹ کے پیچھے چھالیا۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے اس احتجاج کو حملہ قرار دیکر شکایت درج کروا دی ہے۔ ہائی کمشنر نے کہاہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ میں 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملہ کرنے والوں کی شناخت کیلیے اقدامات کا حکم دیا اور کہا کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کی گاڑی پر بھی حملہ ہوا ہے، ہم اس واقعہ پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایف آئی آر درج کر کے مزید کارروائی کی جائے گی، حملہ آوروں کے شناختی کارڈ بلاک اور پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے۔


































