
برلن : جرمنی نے چاقو زنی کے واقعے کے بعد افغانوں اور شامیوں کی ملک بدری پر غور شروع کردیا۔ وزیر داخلہ نینسی فیسر نے کہا کہ وہ مانہیم میں ایک پناہ گزین کے پولیس افسر کو چاقو مارنے کے بعد افغانستان اور شام جیسے ممالک کے پناہ گزینوں کی ملک بدری دوبارہ شروع کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ میرے لیے یہ بالکل واضح ہے کہ جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طورپر ملک بدر کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس بات پر بھی پوری طرح اٹل ہوں کہ جرمنی کی سلامتی کے مفادات واضح طورپر متاثرہ افراد کے مفادات سے زیادہ اہم ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسی لیے ہم مجرموں اور خطرناک لوگوں کو شام اور افغانستان دونوں میں ہی ڈی پورٹ کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔


































