
نیویارک: اسپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال تک اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کو 175 ملین ڈالر فراہم کرے گا، تاکہ امریکی کٹوتیوں کے بعد ایجنسی کو سہارا دیا جا سکے۔ یہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسپین، برازیل اور اردن کے وزرائے خارجہ کی مشترکہ کانفرنس میں کیا گیا، شرکا نے انروا کی سنگین مالی مشکلات پر تشویش ظاہر کی۔
اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے کہا کہ انروا کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ اسپین فلسطینی عوام کی اذیت پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 تک اسپین کی مجموعی امداد 150 ملین یورو تک پہنچ جائے گی، جس میں 2023 کے بعد دیے گئے 70 ملین ڈالر اور اضافی 11 ملین ڈالر بھی شامل ہیں۔ اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفادی اور انروا کے سربراہ فلیپ لزارینی نے بھی خطاب کیا اور خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ کیے تو ایجنسی کو سخت فیصلے کرنا پڑیں گے، جن میں عملے کی تنخواہیں روکنے اور فلسطینی خاندانوں کی معمولی سبسڈی ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ لازارینی نے زور دیا کہ انروا کے لیے فنڈنگ کی کمی نہ صرف ادارے بلکہ مجموعی انسانی ردعمل کے انہدام کا باعث بن سکتی ہے۔


































