
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے شہدا کو اللہ کی جانب سے منتخب شدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہیدوں نے صحیح راستے کا انتخاب کیا ہے اور خدا نے منزل تک پہنچنے کے لئے ان کا انتخاب کیا ہے، ہمارے مادی اور دنیوی حساب کتاب اور معیارات سے شہیدوں کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جانا ممکن نہیں ہے۔ صوبہ زنجان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقدہ کانفرنس کے منتظمین اور لواحقین سے ملاقات میں آيت اللہ خامنہ ای نے شہید اور شہادت کے اعلیٰ مقام اور حیثیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت روحانیت کی چوٹی ہے اور ہر چوٹی کو سر کرنے کے لئے اس پہاڑ کے دامن سے گزرنا چاہیئے۔ بہت سے لوگ اس چوٹی تک پہنچنے کی تمنّا رکھتے ہیں، تو انہیں اس کے دامن سے گزرنا ہوگا، اس چوٹی کے دامن میں راستہ تلاش کرنا ہوگا اور اس راستے پر چلنا ہوگا تاکہ ہم چوٹی تک پہنچ سکیں ورنہ دامن سے گزرے بغیر چوٹی تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اخلاص، ایثار، صداقت اور مجاہدت کو شہادت کا راستہ بتایا اور انصاف کی کوشش، اللہ کی جانب توجہ، عوام کے لئے کام اور دین کی حاکمیت کے قیام کو، اس راہ کو طے کرنے کے اہم اور مؤثر اسباب قرار دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے شہداء کی یاد اور ان کے ذکر کو باقی رکھنے کے لئے خراج عقیدت پیش کرنے کے پروگراموں کے انعقاد کی اہمیت کا بھی تذکرہ کیا اور اسے مقدس دفاع کے اقدار کی بحالی کا ابتدائی مرحلہ قرار دیا جسے جاری رہنا چاہیئے۔ انہوں نے شہداء اور مقدس دفاع کے قصوں سے کتاب، فلم اور دستاویزی فلم تیار کئے جانے جیسے ثقافتی کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کاموں کے ساتھ ہی کچھ دوسرے کام بھی ہونے چاہیئے جیسے شہیدوں کی لکھی گئی ڈائریوں کا دین کے عنصر کی مضبوط موجودگی کی بنیاد پر سماجی اور نفسیاتی لحاظ سے تجزیہ کیا جانا چاہیئے، یہ بہت اہم چیز ہے۔


































