Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

اخلاص، ایثار، صداقت اور مجاہدت شہادت کا راستہ ہے، ولی امر مسلمین

تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے شہدا کو اللہ کی جانب سے منتخب شدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہیدوں نے صحیح راستے کا انتخاب کیا ہے اور خدا نے منزل تک پہنچنے کے لئے ان کا انتخاب کیا ہے، ہمارے مادی اور دنیوی حساب کتاب اور معیارات سے شہیدوں کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جانا ممکن نہیں ہے۔ صوبہ زنجان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقدہ کانفرنس کے منتظمین اور لواحقین سے ملاقات میں آيت اللہ خامنہ ای نے شہید اور شہادت کے اعلیٰ مقام اور حیثیت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت روحانیت کی چوٹی ہے اور ہر چوٹی کو سر کرنے کے لئے اس پہاڑ کے دامن سے گزرنا چاہیئے۔ بہت سے لوگ اس چوٹی تک پہنچنے کی تمنّا رکھتے ہیں، تو انہیں اس کے دامن سے گزرنا ہوگا، اس چوٹی کے دامن میں راستہ تلاش کرنا ہوگا اور اس راستے پر چلنا ہوگا تاکہ ہم چوٹی تک پہنچ سکیں ورنہ دامن سے گزرے بغیر چوٹی تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اخلاص، ایثار، صداقت اور مجاہدت کو شہادت کا راستہ بتایا اور انصاف کی کوشش، اللہ کی جانب توجہ، عوام کے لئے کام اور دین کی حاکمیت کے قیام کو، اس راہ کو طے کرنے کے اہم اور مؤثر اسباب قرار دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے شہداء کی یاد اور ان کے ذکر کو باقی رکھنے کے لئے خراج عقیدت پیش کرنے کے پروگراموں کے انعقاد کی اہمیت کا بھی تذکرہ کیا اور اسے مقدس دفاع کے اقدار کی بحالی کا ابتدائی مرحلہ قرار دیا جسے جاری رہنا چاہیئے۔ انہوں نے شہداء اور مقدس دفاع کے قصوں سے کتاب، فلم اور دستاویزی فلم تیار کئے جانے جیسے ثقافتی کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کاموں کے ساتھ ہی کچھ دوسرے کام بھی ہونے چاہیئے جیسے شہیدوں کی لکھی گئی ڈائریوں کا دین کے عنصر کی مضبوط موجودگی کی بنیاد پر سماجی اور نفسیاتی لحاظ سے تجزیہ کیا جانا چاہیئے، یہ بہت اہم چیز ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular