
کراچی: شیعہ علماء کونسل پاکستان نے عزاداروں پر کاٹی گئی ایف آئی آرز واپس نہ لینے پر وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنے کا اعلان کردیا علامہ ناظر عباس تقوی نے علامہ نثار قلندری، علامہ رضی حیدر زیدی، علامہ شبیر میثمی، علامہ کامران عابدی، شمس الحسن شمسی و دیگر کے ہمراہ عزاخانہ زہرا کراچی کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ یکم محرم سے دس محرم تک گھوٹکی، شکارپور، خیرپور، نوشہروفروز، لاڑکانہ، دادو، جامشورو، میرپورخاص اور حیدرآباد کو میدان جنگ بنایا گیا، عباس ٹاؤن کراچی میں سبیل پر حملہ اور منگھوپیر میں عزاداروں پر گولیاں چلائی گئیں، ان تمام کاروائیوں میں چند تکفیری سوچ رکھنے والے چند شرپسند پولیس کی موجودگی میں عزاداروں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے، پولیس شرپسندوں کو روکنے کے بجائے بیلنس پالیسی پر مقدمات قائم کرتی رہی اور ظالم و مظلوم کو ایک ہی کٹہرے میں لاکر کھڑا کردیا گیا، اگر حکومت سندھ کا یہی رویہ رہا تو بہت جلد ہم عوام کو سڑکوں پر لائیں گے، پھر تمام حالات کے ذمہ دار سی ایم سندھ ہونگے، ابھی محرم کا آغاز ہوا ہے لہذا جتنی ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں ان کو واپس لیا جائے، نہ لینے کی صورت میں ہم احتجاجی ماتم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے اور اس دھرنے کی تاریخ کا اعلان جلد کریں گے علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں عزاداری سید الشہداء کو روکنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں، جس میں جلوسوں کے راستے میں مداخلت، مجالس کو چار دیواری میں محدود کرنے کے ساتھ ساتھ سبیل امام حسینؑ لگانے پر مقدمات قائم کئے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں تشیع کو دیوار سے لگایا جارہاہے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے دعوے کرنے والے ادارے بہاولنگر میں ہونے والے بم دھماکے میں ناکام نظر ہے، حکومت پنجاب دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام جب کہ عزاداری کو روکنے میں ریاستی مشینری کا استعمال حیران کن ہے۔


































