
صنعا: انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن علی القحوم نے کہا ہے کہ یمن کے حالات کشیدہ ہونے سے خطے کا امن متاثر ہوجاتا ہے۔ آبنائے باب المندب اور یمن کی ساحلوں پر امریکی فوج کی موجودگی سے پورے خطے کی سیکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ علی القحوم نے ایک انٹرویو میں کہاکہ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں ہم عمان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس کے اچھے اثرات سامنے آئیں گے اور دوسرے فریق کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں یمنی عوام کی فداکاری، یمن کی خودمختاری، محاصرے کا خاتمہ، بیرونی افواج کا انخلاء اور جنگ میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ہمیں توقع ہے کہ مستقبل میں مذاکرات کسی مشکل کے بغیر آگے بڑھیں گے۔ صلح کا راستہ بہترین اور سب کے حق میں ہے۔ سعودی عرب کو امریکی نوکری سے نکلنا ہوگا اور یمن کے محاصرے اور اس پر عائد پابندیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ امریکہ اور مغربی ممالک سعودی عرب کو یمن کے دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ یمن کے حالات کشیدہ ہونے سے خطے کا امن متاثر ہوجاتا ہے۔ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ خطے کو درکار مشکلات کی جڑ امریکی اناپرستی اور استکباری ذہنیت ہے۔ آبنائے باب المندب اور یمن کی ساحلوں پر امریکی فوج کی موجودگی سے پورے خطے کی سیکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔


































