Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

بھارت میں بڑھتی انتہاپسندی، گروگرام میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش اور دھمکیاں

نئی دہلی: بھارت میں گروگرام کے سیکٹر 37 کے بعد اب سیکٹر 12 میں جمعے کی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش۔ ہریانہ کے گروگرام کے سیکٹر 12- اے میں ایک نجی زمین پر جمعہ کی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جب کہ پچھلے ایک سال سے اس جث پر جمعہ کی نماز ادا ہو رہی تھی۔
جمعہ کی نماز ادا کی جا رہی تھی کہ تشدد پر آمادہ ایک بھیڑ نے نماز میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جس سے کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بھیڑ میں انتہاپسند ہندو تنظیم بجرنگ دل کے قریب 30 کارکن شامل تھے۔ مظاہرہ کرنے والوں نے الزام لگایا کہ باہری لوگ بقول انکے غیر قانونی طور پر نماز ادا کر رہے ہیں۔
اس سے قبل گروگرام کے سیکٹر-47 میں گذشتہ مہینے جمعے کی نماز کو لے کر مقامی لوگوں نے اعتراض کیا تھا جسے پرامن طریقے سے حل کر لیا گیا تھا، لیکن سکٹر -12 کے جو حالات بنے، ان سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول رہا۔ انتہا پسند ہندو مظاہرین نے حتیٰ پولیس کو دھمکی دی ہے کہ آئندہ جمعے کی نماز ادا ہونے کی صورت میں اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اسکی ذمہ دار وہ خود ہوگی۔ پولیس ذارئع اور ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک اور جگہ نماز میں رکاوٹ ڈالے جانے کے بعد سکٹر-12میں نماز کی اس جگہ کو مقامی لوگوں کی رضامندی سے ہی چنا گیا تھا۔ یہ ان 37 مقامات میں سے ایک ہے جہاں انتظامیہ نے 18 مئی 2018 کو جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔
خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف جذبات اپنے عروج کو پہنچ گئے ہیں جو ملک بھر میں جا بجا اور گاہے بگاہے خونیں تصادم کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال حکومتی پالیسیوں اور بعض حکام کے نفرت پر مبنی بیانات اور اقدامات کا نتیجہ ہے جس کے باعث ملک میں سرگرم انتہاپسند ہندو تنظیموں کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں، جبکہ حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular