
غزہ : برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز سے وابستہ کینیڈین فوٹو جرنلسٹ ویلیری زنک نے استعفیٰ دیکر اپنے ادارے کا گھناؤنا کردار بے نقاب کردیا۔
ویلیری زنک نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ رائٹرز اسرائیل کے پروپیگنڈے کو تقویت دے کر غزہ میں صحافیوں کے قتل میں براہ راست شریک ہے۔ رائٹرز نے غزہ میں دو سو پینتالیس صحافیوں کے منظم قتل کو جائز اور ممکن بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ویلیری زنک نے اپنے بیان میں لکھا کہ دس اگست کو جب اسرائیلی فوج نے الجزیرہ کے صحافی انس الشریف اور ان کی پوری ٹیم کو قتل کیا تو رائٹرز نے اسرائیل کے اس بے بنیاد دعوے کو شائع کیا کہ انس الشریف حماس کے رکن تھے۔ میرے لیے روئٹرز کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اپنے فلسطینی ساتھیوں کی کم از کم اتنی تو مقروض ہوں یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ غزہ میں نسل کشی کے معاملے پر صرف رائٹرز ہی نہیں پورا مغربی میڈیا نسل پرست صیہونی حکومت کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ خود کو معتبر ظاہر کرنیوالی امریکی نیوز ایجنسی اے پی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی۔ بی بی سی ۔ سی این این اور دوسرے اداروں نے غزہ کی جنگ میں اپنی ساری توانائیاں ظلم کو چھپانے پر صرف کیں۔


































