
غزہ : جنگ بندی کے خاتمے کے بعد دوسرے دن بھی صیہونی فوج کے غزہ پر حملے جاری ہیں۔ شہدا کی تعداد 300 تک جاپہنچی۔ چھ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ صیہونی فوج نے عارضی جنگ بندی ختم ہوتے ہی غزہ پر وحشیانہ حملے شروع کردئے۔ جگہ جگہ بمباری سے کئی مکانات اور رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بند گئیں۔ درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ زمینی، فضائی اور بحری فورسز نے حماس کے چار سو سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
وزارت صحت کے مطابق تازہ حملوں کے بعد اسپتال زخمیوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں اور جگہ نہ ہونے کے سبب زخمی فرش پر پڑے ہوئے ہیں۔ حماس نے بھی اسرائیل پر جوابی حملے کئے۔
اسرائیل کے وسطی حصوں میں متعدد راکٹ داغے گئے۔ تل ابیب اور جنوب کی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ القسام بریگیڈز نےکہا کہ اس نے غزہ شہر کے شمال اور جنوب میں اسرائیلی فورسز کے ٹھکانوں کو درجنوں مارٹر گولوں سے بھی نشانہ بنایا ہے۔
ادھر عارضی جنگ کے خاتمے کے بعد امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں کا پہلا قافلہ غزہ میں داخل ہوگیا۔ فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ سے داخل ٹرکوں کو جنوبی غزہ پہنچایا جائے گا۔


































