
دوحہ: قطر نے غزہ میں نئی جنگ بندی کی کوششیں تیز کردیں۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اسرائیل اور حماس سے نئے رابطے شروع کردیئے۔ قطری وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عرب اور فلسطینی غزہ سے جبری انخلا کے کسی مطالبے کو قبول نہیں کریں گے۔ غزہ میں جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے۔جس قدر قتل عام ہوچکا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ ہمیں انسانی زندگیاں بچانے کیلئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ اگر جنگ بندی میں مزید تاخیر ہوئی تو گولہ باری اور بھوک سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔
ادھر قطری وزیر خارجہ کہتے ہیں جنگ نے مغرب کو بےنقاب کردیا ہے۔ ایک مقام پر قبضے کے مخالف دوسرے مقام پر خاموش کیوں ہیں۔ قبضے اور تشدد کیخلاف بین الاقوامی ایکشن کی کال کیوں نہیں دے رہے ۔ محمد بن عبدلرحمان الثانی نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی مذہب کی نہیں بلکہ حق خود ارادیت کی ہے ۔ ایسے مغرب اور مشرق کا فرق واضح ہوگیا ہے اور عالمی تنازعات پر مغرب کا دوغلہ رویہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔


































