
اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مورل اتھارٹی نہ رکھنے والے وزیراعظم پاکستان کا دورہ گلگت بلتستان فلاپ شو تھا جہاں عوامی منتخب نمائندوں کی تذلیل کے علاوہ خطے کو کچھ نہیں ملا۔ صوبائی حکومت کو اس دورہ کے دوران لفٹ نہ کرانا ثابت کرتا ہے کہ جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی ان کے سامنے کیا حیثیت ہے؟ وفاق میں جس پیپلز پارٹی کی بیساکھی کے ذریعے فارم 47 پر بننے والے وزیراعظم اور جی بی کی ٹیم کو خیال تک نہ آیا کہ گلگت بلتستان میں اتحادی حکومت ہے جس کا سب سے بڑا سٹیک ہولڈر پیپلز پارٹی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا پرانی اسکیموں پر تختی شوق سے لگوائیں لیکن ایسے دورے سے خاطر خواہ استفادہ نہ کرنے پر ان دونوں پارٹیوں کے رہنماوں سے گلہ ضرور بنتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کا بھی گلہ بنتا ہے جنہوں نے انجینئرنگ کرکے صوبائی حکومت بنائی جو خطے کا کوئی بھی مقدمہ ڈھنگ سے نہیں لڑ سکا ہے۔ آج گلگت بلتستان کے عوام کا گلہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ بھان متی کا کنبہ بنانے والے طاقتوروں سے بھی ہے کہ کس طرح کی فیل سکرپٹ لکھی تھی جس کے بعد خطے میں مایوسی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ دونوں اتحادی جماعتوں کے سربراہان اس حکومت کو نااہل، نکمہ اور چور ڈاکو تک کہہ گئے ہیں۔


































