
پشاور : ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔ کسی فرد واحد کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ پاکستان اور کے پی کے غیور عوام کی جان، مال اور عزت کا سودا کرے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہاں آنے کا مقصد کے پی کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو خارجیوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اس کے پاس تین چوائسز ہیں، خارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو انجام تک پہنچائے ورنہ ریاست پاکستان کی طرف سے بھرپور ایکشن کے لیے تیار ہو جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خارجی دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی، واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا، پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، ہم دہشت گردی کے ناسور سے نبرد آزما ہیں لیکن ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 14500 سے زائد آپریشنز کیے گئے، رواں سال مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد پچھلے 10 سال سے زیادہ ہے، وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے دہشت گردی موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پر آر نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور بھارت کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کے طور پر استعمال کرنا بھی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و ملٹری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا، دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی، نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے کیا، دھرتی کے بہادر سپوتوں نے اپنے خون سے بہادری کی تاریخ رقم کی ہے، افواج پاکستان کی طرف سے تجدید عزم کرنے آیا ہوں۔


































