
اسلام آباد: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے قومی کرپشن تناظری سروے 2023 میں عدلیہ کو تین کرپٹ ترین اداروں میں سے ایک قرار دے دیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس سب سے زیادہ کرپٹ ہے، اس کے بعد ٹھیکے دینے اور کٹریکٹ کرنے کا شعبہ اور پھر عدلیہ ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بالترتیب چوتھے اور پانچویں کرپٹ ترین شعبے ہیں۔ مقامی حکومتیں، لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ کسٹم، ایکسائز اور انکم ٹیکس بالترتیب چھٹے، ساتویں اور آٹھویں کرپٹ ترین ادارے ہیں۔ پبلک سروس ڈیلیوری کی ٹرمز کے مطابق عدلیہ میں رشوت کا اوسط خرچ سب سے زیادہ 25 ہزار 846 روپے ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اوسط رشوت سب سے زیادہ تھی اور یہ ایک لاکھ 62 ہزار روپے تک تھی۔ پنجاب میں اوسط شہری نے زیادہ سے زیادہ رشوت21 ہزار 186 روپے ادا کی اور یہ بھی پولیس کو دی جبکہ بلوچستان میں صحت کی سہولتوں کےلیے زیادہ سے زیادہ اوسط رشوت دی گئی جو کہ 1 لاکھ 60 ہزار روپے تھی۔
رپورٹ کے مطابق 68 فیصد پاکستانیوں کو یقین ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ جیسے ادارے سیاسی شکار کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔انہیں ختم کردینا چاہئے۔ کرپشن کو کچلنے کے اقدامات کے طور پر 55 فیصد پاکستانیوں کا کہنا ہےکہ قومی سطح پر حکومت کو فوری طور پر سرکاری افسران کے اثاثوں کا اظہار اپنی ویب سائٹس پر یقینی بنانا چاہیے اور 45 فیصد کا خیال ہے کہ احتساب عدالتوں کو کرپشن کے مقدمات 30 دن اندر بھگتانے چاہئیں۔


































