
واشنگٹن : امریکا کے جنونی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی عوام کی استقامت کے سامنے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے اور ایران اسرائیل جنگ میں شامل ہونے سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں کیلئے موخر کردیا۔ وائٹ ہاؤس ترجمان کیرولین لیوٹ نے نیوز بریفنگ میں صدر ٹرمپ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کے ساتھ مستقبل قریب میں مذاکرات کے کافی امکانات ہیں۔ وہ اپنا فیصلہ اگلے دو ہفتوں میں کریں گے کہ آیا اسرائیل کیساتھ جنگ میں جانا ہے یا نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کے فیصلے پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے وہ مسائل کے حل کی کوشش سفارتکاری سے کرتے ہیں وہ طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیاکہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے سب کچھ موجود ہے۔ بس انہیں صرف اپنے سپریم لیڈر کے فیصلے کا انتظار ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری سے متعلق وال اسٹریٹ جنرل کی خبر مسترد کردی تھی۔


































