
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کرم واقعہ پر کل یوم احتجاج کا اعلان کردیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کی اس گھناؤنی واردات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہم نے ضلع کرم اور پاراچنار کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو کئی پریس کانفرنسز، احتجاجات، میٹنگز اور پیغامات کے ذریعے خبردار کیا ہے، لیکن کسی کے کان میں جوں تک نہیں رینگی، صوبائی حکومت کی درجنوں میٹنگز اور کئی جرگے بھی اس ظلم کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ضلع کرم کا ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او تک بدلنے کے اختیارات نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ہمارے سیکیورٹی ادارے معاملات کو حل کرنے کے بجائے، جنگ کی آگ کو بھڑکانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پاراچنار اور ضلع کرم میں کشیدہ حالات کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ کون سے عناصر ہیں، جو پاراچنار میں امن نہیں چاہتے؟ میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو ایک مرتبہ پھر ہوش کے ناخن لینے کا انتباہ کرتا ہوں۔ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سانحہ پاراچنار، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کی مجرمانہ غفلت، کوتاہی اور بے حسی کا نتیجہ ہے، یہی لوگ ہمارے شہداء کے مجرم ہیں، جو امن و امان کے قیام اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔


































