
پاراچنار : خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں مرکزی شاہراہ سمیت آمدورفت کے تمام راستوں کی بندش کو چھیاسٹھ روز گذر گئے۔ پانچ لاکھ سے زیادہ کی آبادی دو ماہ سے محاصرے میں ہے لیکن اب تک کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔
گرینڈ امن جرگہ بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ غذائی قلت سے بھوک نے سینکڑوں ہزاروں گھروں میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں۔ اسپتالوں میں چھوٹے چھوٹے بچے نمونیا سے مررہے ہیں۔ مڈل کلاس کا سفید پوش طبقہ بھی آٹے کی ایک بوری کی بھیک مانگ رہا ہے۔
کرم میں اشیائے خورونوش کے علاوہ پیٹرول اور ادویات کی شدید قلت ہوگئی ہے۔
کرم سے رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے کہا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کا واحد حل مرکزی شاہراہ کو محفوظ بنانا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود نے کہا کہ حالات معمول پر لانے اور متاثرین کی امداد کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 21 نومبر کو ضلع کرم میں پاراچنار سے پشاور جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر اوچت کے مقام پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے خواتین و بچوں سمث درجنوں افراد شہید ہوگئے تھے۔ جس کے بعد سے ضلع میں خونی تصادم کا آغاز ہوگیا تھا جس میں فریقین کے درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔


































