
جنیوا: اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا جبری انخلا انیس سو سڑسٹھ کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کے ترجمان ثمین الخیطان نے کہاہے کہ رواں سال کے آغاز پر مغربی کنارے کے شمالی حصے میں اسرائیل کی فوجی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں فلسطینیوں کے سینکڑوں گھروں کو مسمار کیا جا چکا ہے جس کے نتیجے میں 30 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
ثمین الخیطان نے کہا ہے کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل کی ذمہ داریوں کے بارے میں بین الاقوامی قانون بالکل واضح ہے۔ مقبوضہ علاقے کی آبادی میں مستقل طور پر تبدیلی لانا جنگی جرم اور نسلی صفائی کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اسی طرح آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کیا جائے تو یہ غیر قانونی جبری منتقلی کے زمرے میں آتا ہے جو حالات کے لحاظ سے انسانیت کے خلاف جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔


































