
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نئی صدر اور گیانا کی مندوب کیرولین روڈریگس برکیٹ نے نام لئے بغیر فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو قانونی قرار دیا ہے۔ عرب روزنامہ القدس العربی سے انٹرویو میں کیرولین روڈریگس برکیٹ نے کہا کہ نو آبادیاتی حکمرانی کے تحت رہنے والے لوگوں کے مزاحمت کے حق کو بین الاقوامی قانون میں تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ گیانا کی اہم ترجیحات بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے اور تنازعات والے علاقوں میں بچوں کی حفاظت پر مرکوز ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پورے ماہ میں انتیس میٹنگز کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس میں شام، عراق، فلسطین، سوڈان، لیبیا، یمن، جوہری عدم پھیلاؤ، وسطی افریقی جمہوریہ اور افغانستان سمیت وسیع مسائل کا احاطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ سلامتی کونسل تیس جون کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں سے متعلق قرارداد 2334 پر عمل درآمد کے لیے اجلاس منعقد کرے گی۔


































