
بغداد : عراق میں انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج پرتشدد تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں دو شخص جاں بحق اور 125زخمی ہو گئے۔ عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر اعتراض کرنے والے مظاہرین جلوس کی شکل میں بغداد کے گرین زون پہنچے اور وہاں خیمے نصب کر کے انتخابی نتائج کے خلاف نعرے لگا رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز سے ان کی جھڑپیں شروع ہوئیں جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 125 زخمی ہوئے۔ احتجاجی مظاہرین ملک کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کی مخالفت کے ساتھ ہی ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرائے جانے کا مطالبہ کررہےتھے۔ علاقے میں الیکشن کمیشن، اہم سرکاری دفاتر اور امریکی سفارتخانے کی عمارت واقع ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے فائرنگ کردی۔ مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ جھڑپوں کی وجہ سے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ حزب اللہ بریگیڈ کے مطابق شام کو گرین زون کے قریب جھڑپیں اس وقت دو بارہ شروع ہوئیں جب سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے ٹینٹ جلائے۔ سیکیورٹی فورسز نے گرین زون کے آس پاس کے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔
وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے پیش آنے والے واقعات کی مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے جبکہ صدر برہام صالح نے ضبط و تحمل سے کام لینے کا کہا ہے۔


































