Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

عراق میں انتخابی نتائج کیخلاف احتجاج کرنے والوں پر سیکیورٹی فورسز کا دھاوا، جھڑپوں میں دو شخص ہلاک

بغداد : عراق میں انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج پرتشدد تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں دو شخص جاں بحق اور 125زخمی ہو گئے۔ عراق میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر اعتراض کرنے والے مظاہرین جلوس کی شکل میں بغداد کے گرین زون پہنچے اور وہاں خیمے نصب کر کے انتخابی نتائج کے خلاف نعرے لگا رہے تھے کہ سکیورٹی فورسز سے ان کی جھڑپیں شروع ہوئیں جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 125 زخمی ہوئے۔ احتجاجی مظاہرین ملک کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کی مخالفت کے ساتھ ہی ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرائے جانے کا مطالبہ کررہےتھے۔ علاقے میں الیکشن کمیشن، اہم سرکاری دفاتر اور امریکی سفارتخانے کی عمارت واقع ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے فائرنگ کردی۔ مظاہرین نے بھی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ جھڑپوں کی وجہ سے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ حزب اللہ بریگیڈ کے مطابق شام کو گرین زون کے قریب جھڑپیں اس وقت دو بارہ شروع ہوئیں جب سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے ٹینٹ جلائے۔ سیکیورٹی فورسز نے گرین زون کے آس پاس کے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔
وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے پیش آنے والے واقعات کی مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے جبکہ صدر برہام صالح نے ضبط و تحمل سے کام لینے کا کہا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular