
جنیوا : اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا نے غزہ میں غذائی قلت میں تیزی سے اضافے سے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
انروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ انروا کے کلینکس پر آنے والے بیشتر بچے کمزور اور ان کی جسمانی قوت تباہ ہوچکی ہے۔ فوری طبی مداخلت نہ ہوئی تو وہ موت سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سو سے زائد افراد، جن میں سے اکثریت بچوں کی ہے، بھوک سے متعلقہ وجوہات کے باعث مر چکے ہیں۔
لازارینی نے کہا کہ بحران پورے خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے کے لیے خود بہت زیادہ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے کارکن بھی بحران کے بوجھ تلے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کیونکہ جنگ زدہ علاقے کو سامان اور عملے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد کے لیے لامحدود اور مسلسل رسائی کا مطالبہ کیا۔


































