
لکھنو : بھارت کے شیعہ عالم دین اور لکھنو جامع مسجد کے امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے دیوبند میں مشتبہ حالات میں پولیس چھاپے کےدوران ذیشان حیدر کی شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے شہید ذیشان حیدر نقوی کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں کہاکہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ہے سب ہی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو محض اپنا ووٹ بینک بنا کر رکھا اور ہمشیہ انہیں دھوکا دیا۔ مسلمانوں کو سیاسی پارٹیوں سے باوقار سمجھوتا کرکے ہی انتخابات میں شرکت کرنی چاہیئے۔ آج بھی لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اورتنگ نظری پر مبنی نعرے لگا کر ووٹوں کا پولیرائزیشن کیا جاتا ہے۔ مولانا کلب جواد نے کہا کہ کسی بھی پارٹی کی حکومت بنوا کر ہمیں اپنا حق نہیں ملے گا، بلکہ کسی بھی پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اور حکومت میں حصہ داری حاصل کرکے ہی اپنے حقوق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ مولانا کلب جواد نے کہا کہ سنی اور شیعہ کے مسائل کھڑے کرکے باہمی منافرت پیدا کردی گئی اور نفرتوں کو اس حد تک ہوا دی گئی کہ سنی اور شیعہ ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت اسرائیل اور امریکا کی سرپرپرستی میں پوری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دینے کا کام رہی ہے۔ مجلس علماء ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا کلب جواد نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے خلاف بالکل جھوٹا کیس بنایا ہے۔ ان کے خلاف سازش کی گئی ہے اورسازش کے تحت ان کا قتل کیا گیا ہے۔ ہم اس سلسلہ میں اترپردیش کے وزیراعلٰی یوگی آدیتہ ناتھ سے بات کریں گے۔ کوشش ہوگی کہ مرکزی وزیر داخلہ سے بھی اس بابت بات ہو کیونکہ اس معاملے کو کسی بھی صورت میں دبنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ جلد سے جلد ظالم بے نقاب ہوں اور اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔


































