
نیویارک: صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیل کا ایسا نقشہ لہرادیا جس میں فلسطین کا کوئی وجود نہیں۔ صیہونی وزیراعظم نے خطاب کے دوران دو نقشے اٹھا رکھے تھے اور دونوں نقشوں میں مقبوضہ فلسطین – مغربی کنارے اور غزہ – کے ساتھ ساتھ شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کو بھی اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی سرپرستی میں اسرائیل ، سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ امن ایک نیا مشرق وسطیٰ تشکیل دے گا ، فلسطینیوں کو یہودیوں کے لیے الگ یہودی ریاست کے قیام کے حق کو تسلیم کرنا ہو گا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل کا سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ دوسرے عرب ملکوں کو بھی امن معاہدے کرنے پر آمادہ کرےگا۔
خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کو تسلیم کر کے سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔


































