
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کو مسترد کردیا اور واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات ایران کے لیے بے سود اور نقصان دہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی دھمکیوں کے تحت مذاکرات کریں گے تو اس کا مطلب ہوگا کہ جب بھی دھمکی دی جائے تو ہم ڈر کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کے تحت مذاکرات کسی بھی باعزت قوم کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ مذاکرات کے نتائج پہلے ہی طے کر چکا ہے اور اس کا مقصد ایران کو کمزور اور غیر دفاعی بنانا ہے۔ وہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ صرف ایسے مذاکرات کو قبول کریں گے جن کا نتیجہ ایران میں ایٹمی سرگرمیوں اور یورینیم کی افزودگی کو بند کرنا ہو۔ یہ مذاکرات نہیں، بلکہ ایک طرح کی زبردستی ہے۔ اور ایسی زبردستی کا کوئی فائدہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایک بار ہم دھمکیوں کے آگے جھک گئے، تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ آج وہ کہتے ہیں کہ اگر افزودگی جاری رکھی تو ہم ایسا کریں گے، کل کہیں گے اگر میزائل رکھے تو ہم ویسا کریں گے، پھر کہیں گے اگر فلاں ملک سے تعلقات نہ رکھے تو ہم کچھ کریں گے، یا اگر تعلقات رکھے تو ہم کچھ اور کریں گے۔ رہبرِ انقلاب نے زور دیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو اپنی قومی خودمختاری اور دفاعی ضروریات کے تحت جاری رکھے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔


































