Wed Oct 21, 2026

ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ، یہود دشمنی پر تادیبی کارروائی کی شقیں بھی شامل البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی

روزانہ کی خبریں

مسلم تنظیموں کا اسلام مخالف فلم ہم دو اور ہمارے بارہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ

نئی دہلی : ہندوستان میں مسلمانوں کے دینی ادارے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جماعت اسلامی ہند نے فلم ہم دو اور ہمارے بارہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔ مسلم پرسنل بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا ہے کہ اس بات پر انتہائی حیرت اور تعجب ہے کہ کس طرح فلم سنسر بورڈ نے اس لغو، گمراہ کن، اشتعال انگیز اور ایک فرقہ کو بدنام کرنے والی فلم کی نمائش کی اجازت دی ہے۔ انہوں نےکہا کہ فلم کے ٹائٹل۔ اسکے تھیم، اس کی پوری کہانی اور مکالموں کے ذریعہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی شبیہ ہی بگاڑنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ یہ فلم مذہب اسلام اور اس کی تعلیمات پر بھی جارحانہ حملہ کرتی ہے۔ ادھر جماعت اسلامی ہند نے ایک بیان میں کہاہےکہ یہ فلم ہندوستان کے تکثیری سماج میں مسلمانوں کی امیج کو خراب کرنے اور اسلام کو بدنام کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے جس کی ریلیز پر روک لگانا ضروری ہے۔
مسلم دانشوروں، قائدین اور عوام سے اپیل کی گئی ہے وہ خط لکھ کر سنسر بورڈ آف انڈیا کے پاس اپنا احتجاج درج کروائیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular