
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حجاج کے نام پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی دنیا کو چاہیے کہ وہ غزہ میں جاری صیہونی مظالم کو روکنے کے لیے حج کی تعلیمات پر عمل کرے۔ معرفت کے ساتھ انجام دیا گیا حج اور اس سے ملنے والا درس ہی آج کی اسلامی دنیا کے دردوں کا علاج ہیں۔ انہوں نے غزہ میں صیہونی حکومت کے مظالم اور درندگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی حکومتوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ غزہ میں انسانی المیے کے تسلسل کو روکیں اور صیہونی حکومت کے سب سے بڑے حامی یعنی امریکہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی مدد اور حمایت کو بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان عوام کی بھی یہی ذمہ داری ہے کہ اپنی حکومتوں سے اس فریضے کی ادائیگی کا پُرزور مطالبہ کریں۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ آج کی اسلامی دنیا کو حج کے دروس سے پہلے سے زیادہ استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ دوسرا حج ہے جو غزہ میں صیہونی جرائم کے ایام میں انجام پارہا ہے۔ فلسطین پر قابض مجرم صیہونی گینگ نے ناقابل یقین درندگی اور شر انگيزی کے ساتھ غزہ کے المیے کو ایک ناقابل یقین حد تک پہنچا دیا ہے۔ اس وقت فلسطینی بچے بموں، گولوں اور میزائلوں کے علاوہ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔ اپنے عزیزوں، جوانوں اور ماں باپ کو کھونے والے غم رسیدہ گھرانوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ غزہ میں انسانی المیے کے مقابلے میں کون کھڑا ہوگا؟ بے شک یہ سب سے پہلے اسلامی حکومتوں کا فریضہ ہے۔ مسلم حکومتیں شاید مختلف مسائل میں آپس میں سیاسی اختلاف رکھتی ہوں لیکن یہ اختلافات غزہ کے المناک مسئلے پر متفقہ مؤقف اپنانے اور آج کی دنیا کے سب سے مظلوم انسانوں کے دفاع میں تعاون کے سلسلےمیں ان کے آڑے نہیں آنا چاہئے۔ مسلمان عوام کو چاہئے کہ اپنی حکومتوں سے اس فریضے پر عمل کا تقاضا کریں۔
ولی امر مسلمین نے امریکا کو غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کا حقیقی شریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان حکومتوں کو چاہیے کہ وہ صیہونی حکومت کو امداد پہنچانے کے تمام راستے بند کردیں اور اس مجرم حکومت کے ہاتھوں کو غزہ میں جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات سے روکیں۔ اسی طرح خطے میں امریکہ سے وابستہ افراد و حکومتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس استکباری حکومت کو صیہونی حکومت کی حمایت ختم پر مجبور کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام کی حیرت انگیز مزاحمت نے مسئلہ فلسطین کو اسلامی دنیا اور تمام آزاد انسانوں کی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس مظلوم قوم کی حمایت کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔ آج فلسطین کا نام ہمیشہ سے زیادہ درخشاں ہے اور صیہونیوں اور ان کے حامیوں سے نفرت، ہمیشہ سے زیادہ ہے اور یہ عالم اسلام کے لیے ایک اہم موقع ہے۔


































