
بغداد : عراق کے صوبہ دیالی میں داعش کے حملے کے بعد فرقہ وارانہ تشدد نے سراٹھالیا۔ صورتحال کی سنگینی کے سبب بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوگئی ہے۔ گذشتہ ہفتے داعش کے دہشت گردوں نے شیعہ اکثریتی علاقے المقدادیہ پر حملہ کرکے 15افراد کو شہید اور 30 کو زخمی کردیا تھا جس کے اگلے ہی دن بعض مسلح افراد نے سنی اکثریتی علاقے نہر الامام پر حملہ کیا اور 8 افراد کو قتل کردیا۔ گورنر نے مقدادیہ کے علاقے میں کرفیو لگاکر اضافی سیکیورٹی تعینات کردی ہے تاہم علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور سنی اور شیعہ دونوں علاقوں سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔ صدر تحریک کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے صوبے دیالی میں فرقہ وارانہ بغاوت کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقہ اس وقت دہشت گردی، اسمگلنگ اور ملیشیاؤں کے نرغے میں ہے۔ اور کچھ لوگوں کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کو سرحدوں کی حفاظت کے لیے سخت اور تیزی سے کام کرنا چاہیے اور خطرات سے بچنے کے لیے تیزی سے تعیناتی کرنی چاہیے۔


































