
بغداد : عراق کی صدر پارٹی کے رہنما مقتدی الصدر نے حالیہ واقعات کو فتنہ قرار دیتے ہوئے قوم سے معافی مانگ لی ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں مقتدی الصدر نے کہا کہ عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں عراقی عوام سے معذرت خواہ ہوں، جو صرف ان واقعات سے متاثر ہوئے ہیں،ہمیں امید تھی کہ پر امن احتجاج ہوگا، ہتھیاروں سے نہیں۔اس بات سے قطع نظر کہ اس فتنے کا آغاز کس نے کیا میں پوری قوم سے شرمندہ ہوں اور ان سے معافی مانگتا ہوں۔میں اب صدر تحریک کے انقلاب کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہوں جیسا کہ میں نے اکتوبر کے انقلاب پر تنقید کی تھی جب یہ تشدد سے متاثر ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ اپنی سوچ بدلیں اور مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائیں، یہاں تک کہ دھرنے سے بھی
مقتدی صدر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست سے میری کنارہ کشی یقینی ہے اور اب میں ایک عام شہری ہوں، سیاست میں کسی طور مداخلت نہیں کروں گا۔ ساتھ ہی انہوں نے گزشتہ روز حالات کو قابو میں کرنے کے لئے ملک کی سیکیورٹی فورسز اور رضاکار فورس الحشد الشعبی کی جد وجہد کا بھی شکریہ ادا کیا۔عراق کے وزیر اعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے مقتدی الصدر کے اس اقدام کو سراہا ہے اور ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے ایک بار پھر قومی مکالمے پر زور دیا ہے۔


































