
جنیوا : اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں صرف دو ماہ کے دوران ساڑھے نو سو سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انروا کے مطابق غزہ کے بچے ناقابلِ تصور اذیت سے گذر رہے ہیں۔ وہ بھوک سے بلک رہے ہیں۔ بے گھر ہو چکے ہیں اور اندھی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اب رکنا چاہیے۔ بچوں کو تحفظ دینا لازم ہے۔ انروا نے کہا کہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے غزہ کو روزانہ 500 سے 600 ٹرک امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی ایجنسیوں کے ذریعے منظم اور مسلسل امدادی قافلوں کی ترسیل ہی تباہی کو مزید بڑھنے سے روکنے کا واحد راستہ ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق اس وقت صرف 25 میں سے 4 تنور ہی کام کر رہے ہیں جو شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ بازاروں سے غذائی اشیاء تقریباً ختم ہو چکی ہیں اور قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس سے غذائی قلت، بھوک اور قحط کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔


































