
لندن : انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں شہریوں کی کالز ٹیپ کرکے جاسوسی کی جا رہی ہے اور چین کی تیار کردہ فائر وال کے ذریعے سوشل میڈیا کو بھی سنسر کیا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ پاکستان کے مانیٹرنگ نیٹ ورک کو چینی اور مغربی ساختہ ٹیکنالوجی سے تیار کیا گیا ہے اور اسی کے ذریعے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ملک میں پہلے سے محدود سیاسی اور میڈیا کی آزادیوں میں حالیہ برسوں کے دوران مزید سختی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خفیہ ادارے لافل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ سسٹم (لمز) کے ذریعے بیک وقت چالیس لاکھ شہریوں کے موبائل فونز کو مانیٹر کر سکتےہیں۔ جبکہ فائروال بیک وقت بیس لاکھ سیشنز کو جام کر سکتی ہے۔ایمنسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں مانیٹرنگ سسٹم مل کر کام کرتے ہیں، ایک ایجنسیوں کو کالز اور ٹیکسٹس text ٹیپ کر کے دیتا ہے جبکہ دوسرا ملک میں ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کو سست یا بلاک کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان تقریباً ساڑھے چھ لاکھ ویب لنک بلاک ہیں جن میں یوٹیوب، فیس بک اور ایکس کے لنکس شامل ہیں۔


































