
لندن : برطانوی جریدے ٹائمز نے لکھا ہے کہ فرانس کی کالونی کی حیثیت رکھنے والے نائجر میں بغاوت کے واقعات کا رونما ہونا فرانس کی شکست کا واضح ثبوت ہے۔فرانس کی افریقہ کے بارے میں پالیسی ناکامی سے دوچار ہوگئی ہے۔ اخبار نے مزید لکھا کہ کئی سال تک بحران کا شکار رہنے کے بعد نائجر بھی بورکینا فاسو اور مالی کی طرح بدحال ہوگیا ہے۔ تینوں ممالک میں ہونے والی بغاوتیں آپس میں شباہت رکھتی ہیں۔ فرانسیسی خفیہ ایجنسی نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ روس مخالف واگنر کے جنگجووں کو سرکوب کردیا ہے۔ جریدے کے مطابق فرانسیسی خفیہ ایجنسی نایجر میں بغاوت کے حوالے سے پیش گوئی کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بورکینافاسو اور مالی میں بھی فرنچ ادارے کو خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ نائجر سے فرانسیسی فوجیوں کے انخلاء کی صورت میں امریکی افواج کو بھی ملک چھوڑنا ہوگا۔ اس طرح واگنر سے تعلق رکھنے والے جنگجووں کے لیے میدان خالی ہوجائے گا اور نائجر میں کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا۔


































