Tue Oct 20, 2026

البانیہ میں پرتشدد مظاہروں میں مزید شدت، دارالحکومت تیرانا کی سڑکیں میدان جنگ بن گئیں امریکی وزیرِ جنگ کا اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ، نیتن یاہو سے ملاقات: ایگزیوس امریکی و اسرائیلی حملے کھلی جارحیت، اسلام آباد مفاہمت بحال کی جائے: چینی وزیراعظم فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا امریکی سپریم کورٹ سے رجوع محسن نقوی کی قطری ہم منصب سے ملاقات، سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے پر اتفاق فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور سینیٹ ارکان کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینے کا بل منظور متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق امریکی کارروائی کے نتیجے میں دنیا کو توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، پاسداران انقلاب روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین

روزانہ کی خبریں

یوکرین کی فوجی امداد، برطانیہ کا خزانہ خالی ہونے لگا

لندن : رواں سال کے آخر تک یوکرین کو دینے کیلئے برطانیہ کے پاس مختص فنڈز ختم ہو جائیں گے۔ وزارت دفاع کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ پہلے ہی یوکرین کو 2.7 ارب ڈالرز فوجی امداد کی مد میں دے چکا ہے لیکن اب برطانوی عوام میں اس جنگ کے حوالے سے جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ آنے والی نئی حکومت کو خزانے کی بتدریج کم ہوتی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ ہفتے یوکرین کے دارالحکومت کا دورہ کرکے 63 ملین ڈالرز کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا اور یہ امداد فوجی امداد کی مد میں دیے گئے 2.7؍ ارب ڈالز کے علاوہ ہے۔ اعلان کیا گیا تھا چاہے جنگ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا لیکن اب لگتا ہے کہ صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور برطانوی خزانے خالی ہو رہے ہیں لہٰذا وزرات دفاع نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی امداد کیلئے دستیاب مالی وسائل رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائیں گے۔ سنڈے ٹائمز کے آرٹیکل میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک جیسے ہی امداد کیلئے مختص مالی وسائل ختم ہو جائیں گے تو آئندہ آنے والے وزیراعظم کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ جس وقت ملک کے عوام کیلئے مالی وسائل کم ہو رہے ہیں اس صورت میں کیا یوکرین کیلئے مزید امداد مختص کرنا ٹھیک رہے گا یا نہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ کو اس وقت شدید مہنگائی کا سامنا ہے اور 2023ء میں توقع ہے کہ یہ شرح 18 فیصد ہو جائے گی۔

مزید پڑھیے

Most Popular