
لندن : رواں سال کے آخر تک یوکرین کو دینے کیلئے برطانیہ کے پاس مختص فنڈز ختم ہو جائیں گے۔ وزارت دفاع کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ پہلے ہی یوکرین کو 2.7 ارب ڈالرز فوجی امداد کی مد میں دے چکا ہے لیکن اب برطانوی عوام میں اس جنگ کے حوالے سے جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ آنے والی نئی حکومت کو خزانے کی بتدریج کم ہوتی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ ہفتے یوکرین کے دارالحکومت کا دورہ کرکے 63 ملین ڈالرز کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تھا اور یہ امداد فوجی امداد کی مد میں دیے گئے 2.7؍ ارب ڈالز کے علاوہ ہے۔ اعلان کیا گیا تھا چاہے جنگ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا لیکن اب لگتا ہے کہ صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور برطانوی خزانے خالی ہو رہے ہیں لہٰذا وزرات دفاع نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی امداد کیلئے دستیاب مالی وسائل رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائیں گے۔ سنڈے ٹائمز کے آرٹیکل میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک جیسے ہی امداد کیلئے مختص مالی وسائل ختم ہو جائیں گے تو آئندہ آنے والے وزیراعظم کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ جس وقت ملک کے عوام کیلئے مالی وسائل کم ہو رہے ہیں اس صورت میں کیا یوکرین کیلئے مزید امداد مختص کرنا ٹھیک رہے گا یا نہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ کو اس وقت شدید مہنگائی کا سامنا ہے اور 2023ء میں توقع ہے کہ یہ شرح 18 فیصد ہو جائے گی۔


































