
کابل : طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا کہ ان کا گروپ افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے تہران میں بدھ کو ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اجلاس میں شرکت میں عدم شرکت کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں شرکت نہیں کرے گا۔ تاہم طالبان نے اس اجلاس کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اس اجلاس کا موضوع افغانستان میں ایک جامع حکومت کی تشکیل اور ملک میں امن و استحکام کا قیام ہے۔18 اکتوبر کو ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ تھا ایران، چین ، پاکستان ، تاجکستان ، ترکمانستان اور ازبکستان پر مشتمل 6 ممالک تہران میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ چینی وزیر خارجہ اجلاس میں ورچوئل شرکت کریں گے تاہم روس کی طرف سے اجلاس میں شرکت کے حوالےسے کوئی اطلاع نہیں ملی۔ایرانی خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ طالبان کو اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ طالبان کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا۔ افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے پہلے اجلاس میں جو کہ 8 ستمبر کو پاکستان کی صدارت میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں اگلا اجلاس تہران میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔


































