Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

ڈی چوک پر قتل عام، پی ٹی آئی کی وزیراعظم اور دیگر کیخلاف مقدمہ کی درخواست

اسلام آباد: پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کے احتجاج کے تناظر میں وزیراعظم و دیگر کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا گیا۔ چوبیس نومبر احتجاج کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر کی وساطت سے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں کرمنل کمپلینٹ دائر کی گئی ہے۔درخواست میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔ اسی طرح آئی جی ، ایس ایس پی ، ڈی آئی جی و دیگر کے خلاف بھی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔سردار لطیف کھوسہ نے بیرسٹر گوہر کے ذریعے دائر کمپلینٹ میں 38 زخمی پی ٹی آئی کارکنوں کی فہرست بھی منسلک کی ہے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے 139 لاپتا کارکنوں کی لسٹ بھی ساتھ لگائی گئی ہے۔استغاثہ میں استدعا کی گئی ہے کہ کرمنل کمپلینٹ منظور کر کے وزیر اعظم سمیت دیگر فریقین کو طلب کیا جائے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے 2 وزیر اور 2 ارکان صوبائی اسمبلی کو بھی بطور گواہ شامل کیا گیا ہے۔ کمپلینٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ فریقین کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرکے بلایا جائے اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

مزید پڑھیے

Most Popular