
کراچی میں مرکزی جلوس کے بعد عزاداروں کی پکڑ دھکڑ، شہر کے کئی علاقوں میں جلوسوں کا اہتمام،جلوس نکالنے پر 50سے زائد مقدمات درج کئے گئے
جیکب آباد اور لاڑکانہ میں پولیس کا جلوس روکنے کیلئے عزاداروں پر تشدد،لاہور میں بھی جلوس کا اہتمام، راولپنڈی میں جلوس نکالنے پر 100افراد پر مقدمہ
کراچی/لاہور (نیوز ڈیسک) یوم علی ؑپرکراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ماتمی جلوس نکالے گئے، انتظامیہ اور پولیس نے احکامات کی خلاف ورزی پر عزاداروں کے خلاف درجنوں مقدمات درج کرلئے جبکہ کراچی سمیت کئی شہروں میں سینکڑوں عزاداروں کو گرفتار بھی کیا گیا،کراچی میں نشتر پارک میں مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا ، مجلس کے موقع پر اسکاوٹس اور انتظامیہ نے عزاداروں میں ماسک اور دستانے تقسیم کیے، مجلس کے بعد شرکا جلوس کی شکل میں ماتم کرتے ہوئے حسینیہ ایرانیاں کھارادر پہنچے جہاں جلوس کا اختتام ہوا، جلوس بغیر رکے ہوئے دن ساڑھے گیارہ بجے اختتام پذیر ہوگیا، پولیس نے شاہین کمپلیکس کے پاس ناکہ لگاکر جلوس سے واپس آنے والے درجنوں عزاداروں کو گرفتار کرلیا، جنہیں دوسرے دن عدالت سے رہائی ملی، پولیس نے لیاقت آباد ،قصبہ کالونی سمیت مختلف علاقوں میں جلوس نکالنے پر 50سے زائد مقدمات درج کئے ،جس میں ایم ڈبلیوایم سندھ کے رہنما علی حسین نقوی،شیعہ علما کونسل سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی،جعفریہ الائنس پاکستان کے مرکزی رہنما سید شبر رضا، علامہ باقر حسین زیدی، جلوس کے پرمٹ ہولڈر ڈاکٹر حسن عارف ،تنظیم عزاداری کے رہنما سید محمد نقی،میثم عباس جعفری ، مرکزی تنظیم عزاکے رہنما شہزاد رضوی سمیت متعدد شخصیات کے نام درج ہیں،حیدر آباد میں ا سٹیشن روڈ پر سینکڑوں عزاداروں نے جلوس نکالا، لاہور میں جلوس صبح 7 بجے مبارک حویلی سے برآمدہوا اور 8 گھنٹے کے بعد کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، راولپنڈی میں جلوس تھانہ رتہ امرال کے علاقے کوچہ شیعاں سے برآمد ہوا اور امام بارگاہ کرنل مقبول پر اختتام پذیر ہوا، جلوس نکالنے پر 100 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،جیکب آباد اور لاڑکانہ میں پولیس نے جلوس روکنے کیلئے عزاداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا،کوئٹہ میں جلوس منسوخ کئے جانے کے باوجود منتظمین اور عزاداروں پر مقدمات درج کئے گئے ۔


































