
غزہ: حماس نے صدر محمود عباس کے فلسطین کانفرنس میں خطاب کو افسوسناک اور اسرائیلی اور امریکی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما عزت الرشق نے ایک بیان میں کہا کہ محمود عباس نے مسلح مزاحمت کی مذمت کر کے دراصل اسرائیلی موقف کو دہرایا۔ جبکہ اسرائیلی فوج اور آبادکار غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلسل حملے اور قتلِ عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود عباس نے اسرائیلی مطالبات پر چلتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار ڈالنے کی بات کی جو کہ قومی مفاہمتی معاہدوں اور عوامی جدوجہد کے برخلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ترک کر کے اندرونی اتحاد کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ حقیقی مفاہمت اور مشترکہ مزاحمت ہی آزادی، وقار اور القدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد ریاست کے قیام کا راستہ ہے۔


































