
جدہ : سعودی ولی عہد کے خوابوں کے شہر نیوم کی خاطر اجاڑے گئے الحويطات قبیلے کے لوگوں کو احتجاج کے جرم میں لمبی سزائیں سنادی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم مینا کے مطابق عبداللہ الحویتی اور ان کے عزیز عبداللہ دخیل الحویتی کو پچاس۔ پچاس سال قید اور پچاس سال سفر پر پاپندی کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان افراد نے صوبہ تبوک کو جبری طور پر اجاڑے جانے کے خلاف رشتہ داروں کے احتجاج کی حمایت کی تھی۔ اس سے پہلے لیڈز یونیورسٹی کی طالبہ سلمہ الشہاب اور پانچ بچوں کی ماں نورہ بنت سعید ال قہطانی کو سعودی حکومت کے خلاف تنقیدی ٹویٹ پر 35 اور 45 سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مترجم اور کمپیوٹر سائنس پروگرامر اسامل خالد کو 32 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔


































