
بیروت: لبنان کے وزیر اطلاعات کی جانب سے سعودی عرب کیخلاف بیان دینے پر سعودی عرب نے ریاض میں تعینات لبنانی سفیر کو 48 گھنٹے کے اندر سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے سفیر کو لبنان سے واپس بلا لیا۔ سعودی عرب نے لبنان کی مصنوعات کی درآمدات بھی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی بحرین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ بحرین کی مملکت نے بھی اسی وجہ سے لبنان کے سفیر کو دو دن کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔
سعودی عرب اور لبنان میں سیاسی کشیدگی ایسے میں شروع ہوئی جب وزیر اطلاعات کورداہی نے ستمبر میں سفیر کے عہدے کے لیے منتخب ہونے سے قبل الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں یمن پر سعودی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر یمن پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن اس کی فوٹیج اسی ہفتے اس وقت منظر عام پر آئی جب ان کی ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اس سے قبل لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے یہ کہہ کر اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی کہ کورداہی کے بیانات لبنان کی حکومت کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ نجیب میقاتی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ بیان ان کی تقرری سے قبل کا ہے۔ لبنان کے وزیر اطلاعات کے اس بیان پر سعودی عرب اور اس کے اتحادی خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے 6 سے زائد عرصے سے اپنے پٹھو عرب ممالک اور امریکہ کے ساتھ ملک کر مغربی ایشیا کے غریب عرب اور اسلامی ملک یمن کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ سعودی جارحیت اور محاصرے کے نتیجے میں لاکھوں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کئی لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑاہے۔


































